نئی دہلی،14؍اپریل (ایس او نیوز؍ یو این آئی) کانگریس نے مودی حکومت سے اپنے ان قریبی سرمایہ داروں کے ناموں کا انکشاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کے 5.5 لاکھ کروڑ روپیے کے قرض گذشتہ پانچ برسوں میں معاف کیے گئے ہیں۔
کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ مودی حکومت نے سنہ 2014 سے 2019 کے درمیان کئی سرمایہ داروں کے 5.5 لاکھ کروڑ روپے کے قرض معاف کیے ہیں۔ ان میں سے 1.56 لاکھ کروڑ روپے کے قرض گذشتہ ایک سال میں معاف کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ داروں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کی یہ سب سے گھٹیا مثال ہے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ گذشتہ 10 برسوں میں سرمایہ داروں کے 7 لاکھ کروڑ روپیے کے قرض معاف کیے گئے ہیں جن میں سے 80 فیصدقرض تنہا مودی حکومت نے گذشتہ پانچ برسوں میں معاف کیا ہے۔ حکومت نے اس طرح ہر سال اوسطاً ایک لاکھ کروڑ روپیے سے زیادہ کا قرض معاف کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کے لیے مودی حکومت کے پاس پیسے کی کمی ہے جبکہ سرمایہ داروں کے لیے وہ لوٹ مچا رہی ہے۔
کانگریس نے کہا کہ اس سے مودی حکومت کے متعصب اور جانبدارانہ رویے کا پتہ چلتا ہے کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت ان سرمایہ داروں کے ناموں کا انکشاف کرے جن کے قرض معاف کیے گئے ہیں۔